علی گڑھ:27/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے شعبۂ ہندی میں طلبہ کی تنظیم ’’ ساہتیہ سمّتی‘‘ کے زیرِ اہتمام’’ ساہتیک گوشٹھی پری چرچا‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت شعبہ کے سربراہ پروفیسر عبدالعلیم نے کی۔ پروگرام کا آغاز پوسٹ گریجویشن کے طالب علم حامد علی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ کی نائب سکریٹری سلمیٰ اشفا نے حاضرین کا خیر مقدم کیاجبکہ ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ کے انچارج پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے پروگرام کے اغراض و مقاصد سے روشناس کراتے ہوئے ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ سے متعلق چند دلچسپ حقائق پر روشنی ڈالی۔پروگرام کی نظامت ریسرچ اسکالر عمبرین آفتاب نے کی۔ پروگرام میں شعبہ کے ریسرچ اسکالروں اور طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور اپنی خود ساختہ نظمیں پیش کیں۔ ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ کے سکریٹری ابھیشیک دوبے نے خود ساختہ بھوجپوری لوک گیت موسیقی کی دھنوں پر پیش کیاجبکہ گریجویشن کے طالب علم تبریزاحمد نے ’’نرالا ‘‘پر اپنی نظم پیش کی۔ایم اے کے طالب علم کاشف نے سیاست پر طنز کرتے ہوئے نظم پیش کی۔ اس کے علاوہ ریسرچ اسکالر آصف، آشیش،ارون، رنجن اور سون پال نے بھی اپنی خود ساختہ نظمیں پیش کیں۔ ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ کی خزانچی صنوبر نے ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ سے وابستہ اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ ابھیشیک دوبے نے ہندی اردو کے معروف شاعر عدم گونڈوی کی نظم’’ زندگی کی تاپ‘‘ کو ناٹک کی شکل میں پیش کیا۔اپنے صدارتی خطبہ میں شعبۂ ہندی کے سربراہ پروفیسرعبدالعلیم نے طلبہ کے جوش و خروش پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے ’’ ساہتیہ سمّتی ‘‘ کواپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ’’ ساہتیہ سمّتی‘‘کے نائب انچارج پروفیسر کملا نند جھا نے نے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے ’’ ساہتیہ سمّتی‘‘ کے ذریعہ ان کی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کے عمل کو سراہا۔انہوں نے حال ہی میں فوت نے والے قلم کاروں مسٹر رنجن سوریہ دیو، ہمانشو جوشی، پاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض، فکشن نگار قاضی عبدالستار۔ کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان سب کا مختصر تعارف کرایا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے نظامت کرتے ہوئے حاضرین کا شکریہ بھی ادا کیا۔پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر عبدالعلیم نے بھی طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر پروفیسر پردیپ سکسینہ،پروفیسرویدپرکاش، پروفیسر عاشق علی، پروفیسر ریشما بیگم، پروفیسر تسنیم سہیل، ڈاکٹر اجے بساریہ، ڈاکٹر شہباز علی، ڈاکٹر راحیلہ رئیس کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرس اور طلبہ موجود تھے۔